2 نومبر 2026 - 09:21
یمن: سعودی عرب اور اس کے جرائم کے مالی معاونت کرنے والے مراکز کو دردناک جواب دیں گے

یمن کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے جرائم کا سلسلہ جاری رہا تو یمنی فوج سعودی عرب اور ان جرائم کی مالی معاونت کرنے والے مراکز کو دردناک جواب دے گی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کو یمن کے خلاف میدانِ جنگ میں ناکامی اور یمنی فوج کی کارروائیوں کے مقابلے میں اپنے تیل اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کرنے میں ناکامی کے باوجود، یمن میں شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی تناظر میں یمن کی وزارت خارجہ نے گزشتہ شب ایک بیان جاری کرتے ہوئے سعودی حکام کو ان جرائم کے تسلسل پر خبردار کیا۔

یمن کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے شہریوں اور غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی جارحیت میں شدت آنے کی صورت میں اسے اور ان جرائم کی مالی معاونت کرنے والے مراکز کو دردناک جواب دیا جائے گا۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی عوام کے مطالبات ان کے جائز حقوق ہیں، جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ ان سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمنی عوام اس وقت ایک فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہیں، جو ایک ایسی جارح حکومت نے ان پر مسلط کر رکھی ہے جو تمام طے شدہ اصولوں، قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کو نظرانداز کرتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر یمن کے اہم شہری اور بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

یمن سے موصولہ میدانی اطلاعات کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے دو تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد صوبہ الحدیدہ میں واقع تیل کی بندرگاہ ’’رأس عیسیٰ‘‘ کے گھاٹوں اور وہاں موجود ٹرکوں پر شدید بمباری کی۔ بندرگاہی تنصیبات پر اس حملے کے نتیجے میں کم از کم سات یمنی شہری شدید زخمی ہوئے، جنہیں طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

اس سے قبل یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے سعودی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر سعودی عرب نے ایک ایسا راستہ کھول دیا ہے جسے بند کرنے کی صلاحیت اس کے پاس نہیں ہوگی۔

دوسری جانب صنعا حکومت کے شعبۂ اطلاعات کے سربراہ نصرالدین عامر نے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر یمنی فوج کی مسلسل کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرامکو جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں صفِ اول میں شامل ہے۔ ان کے مطابق، اس کمپنی کے مالی وسائل خطے میں جنگوں اور جارحیت کی مالی معاونت، بشمول اسرائیلی دشمن کی حمایت، کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے آرامکو میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ یمن کی مسلح افواج کی وارننگز کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت اور محاصرے کا تسلسل یمنی افواج کو آرامکو کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر مجبور کرے گا، جس کے نتیجے میں اس کمپنی میں سرمایہ کاری کو بھاری نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha